Sunan Abi Dawood Hadith 4488 (سنن أبي داود)
[4488]حسن
أخرجہ النسائي فی الکبریٰ (5283)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ, قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ،عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْہَرِ،أَخْبَرَہُ،عَنْ أَبِيہِ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِشَارِبٍ وَہُوَ بِحُنَيْنٍ،فَحَثَی فِي وَجْہِہِ التُّرَابَ،ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَہُ،فَضَرَبُوہُ بِنِعَالِہِمْ وَمَا كَانَ فِي أَيْدِيہِمْ،حَتَّی قَالَ لَہُمُ: ارْفَعُوا. فَرَفَعُوا, فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ،ثُمَّ جَلَدَ عُمَرُ أَرْبَعِينَ, صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِہِ،ثُمَّ جَلَدَ ثَمَانِينَ فِي آخِرِ خِلَافَتِہِ،ثُمَّ جَلَدَ عُثْمَانُ الْحَدَّيْنِ كِلَيْہِمَا-ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ-،ثُمَّ أَثْبَتَ مُعَاوِيَةُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ.
جناب عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ازہر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شرابی لایا گیا جبکہ آپ ﷺ حنین میں تھے تو آپ ﷺ نے اس کے منہ پر مٹی ماری۔پھر آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا تو انہوں نے اس کو جوتوں سے اور جو ان کے ہاتھ میں تھا اس سے مارا،حتیٰ کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’بس کرو۔‘‘ تو وہ رک گئے۔پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب پینے پر چالیس ضربیں لگائیں۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے ابتدائی دور میں چالیس ضربیں ہی لگائیں اور آخری دور میں اسی لگانے لگے۔پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دونوں طرح عمل کیا،اسی بھی اور چالیس بھی۔پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ حد اسی (80) دروں پر پختہ کر دی۔