Sunan Abi Dawood Hadith 453 (سنن أبي داود)
[453]صحیح
صحیح بخاری (428) صحیح مسلم (524)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ،عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ: لَہُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيہِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً،ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَہُمْ،فَقَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صلّی اللہ عليہ وسلم عَلَی رَاحِلَتِہِ،وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُہُ،وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَہُ حَتَّی أَلْقَی بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ،وَكَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي،حَيْثُ أَدْرَكَتْہُ الصَّلَاةُ،وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ،وَإِنَّہُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ،فَأَرْسَلَ إِلَی بَنِي النَّجَّارِ فَقَالَ: ((يَا بَنِي النَّجَّارِ،ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ ہَذَا)) فَقَالُوا: وَاللہِ،لَا نَطْلُبُ ثَمَنَہُ إِلَّا إِلَی اللہِ عَزَّ وَجَلَّ،قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَ فِيہِ مَا أَقُولُ لَكُمْ،كَانَتْ فِيہِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ،وَكَانَتْ فِيہِ خِرَبٌ،وَكَانَ فِيہِ نَخْلٌ،فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ،فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ،وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْہِ حِجَارَةً،وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ،وَہُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مَعَہُمْ،وَہُوَ يَقُولُ: ((اللہُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَہْ فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَہْ))،
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور (پہلے) اس کی بالائی جانب قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں قیام فرمایا۔ان کے ہاں چودہ راتیں (دو ہفتے) مقیم رہے۔پھر آپ ﷺ نے بنو نجار کو پیغام بھجوایا تو وہ (اپنی روایات کے مطابق استقبال کے لیے تیار ہو کر) تلواریں اپنے گلوں میں حمائل کیے ہوئے آئے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں گویا (وہ منظر میری نظروں کے سامنے ہے) میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنی سواری پر ہیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہیں اور بنو نجار کے معززین آپ کے ارد گرد ہیں،حتیٰ کہ آپ ﷺ نے ابوایوب رضی اللہ عنہ کے احاطے میں نزول فرمایا۔اور رسول اللہ ﷺ کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا،پڑھ لیا کرتے تھے۔آپ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے،پھر آپ ﷺ نے مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور بنو نجار کو بلوایا اور کہا ’’تم مجھ سے اپنے اس باغ کا سودا کر لو۔‘‘ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! ہم اس کی قیمت صرف اللہ عزوجل ہی سے لیں گے۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا اور اس میں وہ کچھ تھا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں یعنی مشرکین کی قبریں،کھنڈر اور کھجوروں کے درخت۔رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی قبروں کے متعلق حکم دیا اور انہیں اکھیڑ دیا گیا،کھنڈر برابر کر دیے گئے اور کھجوریں کاٹ دی گئیں اور ان کے تنوں کو قبلہ رخ قطار سے رکھ دیا گیا۔اور دروازے کے دونوں کنارے پتھروں سے چنے گئے اور (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو تعمیر میں شریک تھے) پتھر ڈھوتے تھے اور مل کر اشعار پڑھتے تھے اور نبی کریم ﷺ بھی ان کے ساتھ تھے: ((اللہم لا خیر إلا خیر الآخرہ فانصر الأنصار والمہاجرہ)) ’’اے اللہ! خیر تو بس وہی ہے جو آخرت میں ملے،پس تو انصار و مہاجرین کی نصرت فرما۔‘‘