Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4671 (سنن أبي داود)

[4671]صحیح

صحیح بخاری (2411) صحیح مسلم (2377)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَہُودِ: وَالَّذِي اصْطَفَی مُوسَی! فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَہُ فَلَطَمَ وَجْہَ الْيَہُودِيِّ،فَذَہَبَ الْيَہُودِيُّ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَخْبَرَہُ, فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا تُخَيِّرُونِي عَلَی مُوسَی،فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ،فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ, فَإِذَا مُوسَی بَاطِشٌ فِي جَانِبِ الْعَرْشِ،فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي،أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَی اللہُ عَزَّ وَجَلَّ؟!. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ يَحْيَی أَتَمُّ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو منتخب فرمایا،تو ایک مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔وہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس چلا آیا اور آپ ﷺ کو بتایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت مت دو۔بلاشبہ (قیامت برپا ہونے پر) جب لوگ بیہوش کیے جائیں گے تو میں ہی ہوں گا جو سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے۔معلوم نہیں وہ بیہوش ہوئے ہوں گے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ہوں گے یا یہ ان افراد میں سے ہوں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ رکھا ہو گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن یحییٰ کی روایت زیادہ مکمل ہے۔