Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4679 (سنن أبي داود)

[4679]صحیح

صحیح مسلم (79)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْہَادِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِينَارٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَلَا دِينٍ, أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ!،قَالَتْ: وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ, فَشَہَادَةُ امْرَأَتَيْنِ شَہَادَةُ رَجُلٍ،وَأَمَّا نُقْصَانُ الدِّينِ, فَإِنَّ إِحْدَاكُنَّ تُفْطِرُ رَمَضَانَ،وَتُقِيمُ أَيَّامًا لَا تُصَلِّي.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا: ’’میں نے کسی ناقص عقل اور ناقص دین والی کو نہیں پایا جو تم سے بڑھ کر عقلمند بندے کو بے عقل بنا دینے والی ہو۔‘‘ ایک عورت بولی: عقل اور دین میں کمی اور نقص کیسے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’عقل کی کمی یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے اور دین میں کمی یوں ہے کہ بلاشبہ عورت رمضان کے دوران میں روزے چھوڑ دیتی ہے اور کئی کئی دن نماز نہیں پڑھتی۔‘‘