Sunan Abi Dawood Hadith 4752 (سنن أبي داود)
[4752]صحیح
صحیح بخاری (1338) صحیح مسلم (2870)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ... بِمِثْلِ ہَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَہُ. قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِہِ وَتَوَلَّی عَنْہُ أَصْحَابُہُ, إِنَّہُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ،فَيَأْتِيہِ مَلَكَانِ فَيَقُولَانِ لَہُ-... فَذَكَرَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ الْأَوَّلِ قَالَ فِيہِ وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَيَقُولَانِ لَہُ زَادَ الْمُنَافِقَ وَقَالَ يَسْمَعُہَا مَنْ وَلِيَہُ غَيْرُ الثَّقَلَيْنِ.
محمد بن سیلمان نے عبدالوہاب سے اسی اسناد سے اس حدیث کی مانند روایت کیا،کہا کہ ’’جب بندے کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس آنے لگتے ہیں تو وہ ان کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں‘‘ اور پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا۔اس میں کہا: ’’کافر اور منافق کہتے ہیں‘‘ اس میں ’’منافق‘‘ کا لفظ زیادہ ہے۔نیز یہ کہا: ’’اس کی چیخ کو جنوں اور انسانوں کے علاوہ قریب قریب کی سب مخلوق سنتی ہے۔‘‘