Sunan Abi Dawood Hadith 4784 (سنن أبي داود)
[4784]إسنادہ حسن
عروۃ بن محمد السعدي وأبوہ وثقھما ابن حبان والحاکم والذھبي وغیرھم فحدیثھما لا ینزل عن درجۃ الحسن مشکوۃ المصابیح (5113)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ خَالِدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ الْقَاصُّ،قَالَ: دَخَلْنَا عَلَی عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ السَّعْدِيِّ،فَكَلَّمَہُ رَجُلٌ،فَأَغْضَبَہُ،فَقَامَ فَتَوَضَّأَ،ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ تَوَضَّأَ،فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ،وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ،وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ،فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ.
ابووائل القاص (واعظ) کہتے ہیں کہ ہم جناب عروہ بن محمد سعدی رحمہ اللہ کے ہاں گئے۔ایک آدمی نے ان سے کوئی بات کی تو انہیں غصہ آ گیا ‘ تو وہ اٹھے اور وضو کیا پھر (وضو کر کے) واپس آئے اور بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا عطیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے۔سو جب تم میں سے کسی کو غصہ آ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ وضو کر لے۔‘‘