Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4785 (سنن أبي داود)

[4785]صحیح

صحیح بخاری (6126) صحیح مسلم (2327)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا, أَنَّہَا قَالَتْ: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَہُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا, فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْہُ،وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لِنَفْسِہِ إِلَّا أَنْ تُنْتَہَكَ حُرْمَةُ اللہِ تَعَالَی فَيَنْتَقِمُ لِلَّہِ بِہَا.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو کاموں میں سے کسی کا اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ نے ہمیشہ آسان ہی کو اختیار فرمایا بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہوتا۔اگر اس میں گناہ ہوتا تو آپ ﷺ سب سے بڑھ کر اس سے دور ہونے والے ہوتے تھے۔اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا ‘ سوائے اس کے کہ اﷲ کی حرمتوں کی پامالی ہوتی ہو ‘ تو اس میں اﷲ کے لیے انتقام لیتے تھے۔