Sunan Abi Dawood Hadith 4789 (سنن أبي داود)
[4789] إسنادہ ضعیف
انظر الحدیث السابق (4182)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ،عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ وَعَلَيْہِ أَثَرُ صُفْرَةٍ: وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَلَّمَا يُوَاجِہُ رَجُلًا فِي وَجْہِہِ بِشَيْءٍ يَكْرَہُہُ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ ہَذَا أَنْ يَغْسِلَ ذَا عَنْہُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَلْمٌ لَيْسَ ہُوَ عَلَوِيًّا كَانَ يُبْصِرُ فِي النُّجُومِ وَشَہِدَ عِنْدَ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ عَلَی رُؤْيَةِ الْہِلَالِ فَلَمْ يُجِزْ شَہَادَتَہُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ اس پر زرد رنگ کا کچھ نشان تھا۔اور رسول اللہ ﷺ کسی شخص کو اس کے منہ پر بہت کم ایسی بات کہتے تھے جو اس کو ناگوار ہو۔(یعنی اس کی غلطی پر اس کو نہ ٹوکتے تھے۔) جب وہ چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر تم ہی اس کو کہہ دو کہ اس (رنگ) کو دھو ڈالے (تو بہتر ہو)۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا راوی ’’سلم علوی‘‘ حقیقت میں اولاد علی میں سے نہیں (یہ دوسرا شخص ہے۔اس کا نام سلم بن قیس ہے اور یہ بصری ہے چونکہ ستارے اوپر ہوتے ہیں) ستاروں پر نظر رکھنے کی وجہ سے اسے علوی کہا جانے لگا۔اس نے سیدنا عدی بن ارطاۃ کے سامنے چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے قبول نہ کی۔