Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4791 (سنن أبي داود)

[4791]صحیح

صحیح بخاری (6054) صحیح مسلم (2591)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ،عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَ: بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ-أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ-،ثُمَّ قَالَ: ائْذَنُوا لَہُ،فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَہُ الْقَوْلَ! فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَلَنْتَ لَہُ الْقَوْلَ وَقَدْ قُلْتَ لَہُ مَا قُلْتَ؟! قَالَ: إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللہِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ, مَنْ وَدَعَہُ-أَوْ تَرَكَہُ-النَّاسُ لِاتِّقَاءِ فُحْشِہِ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’کنبے کا بہت برا آدمی ہے۔‘‘ پھر فرمایا ’’اسے اجازت دے دو (بلا لو)۔‘‘ جب وہ اندر آ گیا تو آپ ﷺ نے اس کے ساتھ نہایت نرمی کے ساتھ باتیں کیں۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (کہتی ہیں میں) نے کہا: اے اﷲ کے رسول! آپ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی کے ساتھ باتیں کی ہیں ‘ حالانکہ آپ نے اس کے متعلق ایسے ایسے فرمایا تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’قیامت کے دن اﷲ کے ہاں سب سے برا وہ آدمی ہو گا جسے لوگوں نے اس کی بدکلامی کی وجہ سے چھوڑ دیا ہو۔‘‘