Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4796 (سنن أبي داود)

[4796]صحیح

صحیح بخاری (6117) صحیح مسلم (37)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ،عَنْ أَبِي قَتَادَةَ،قَالَ: كُنَّا مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،وَثَمَّ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّہُ أَوْ قَالَ: الْحَيَاءُ كُلُّہُ خَيْرٌ،فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّا نَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ, أَنَّ مِنْہُ سَكِينَةً وَوَقَارًا،وَمِنْہُ ضَعْفًا،فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ،وَأَعَادَ بُشَيْرٌ الْكَلَامَ،قَالَ: فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّی احْمَرَّتْ عَيْنَاہُ،وَقَالَ: أَلَا أُرَانِي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،وَتُحَدِّثُنِي عَنْ كُتُبِكَ؟! قَالَ: قُلْنَا: يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِيہٍ إِيہِ!!

جناب ابوقتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے جبکہ وہاں بشیر بن کعب بھی تھے (با کے ضمہ کے ساتھ) سیدنا عمران بن حصین نے حدیث بیان کی ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’حیاء سراسر خیر ہے۔‘‘ بشیر بن کعب نے کہا: ہمیں کئی کتابوں میں ملتا ہے کہ بعض حیاء اطمینان اور وقار کی وجہ سے ہوتی ہے اور بعض حیاء کمزوری اور بزدلی کی وجہ سے ہوتی ہے۔تو سیدنا عمران نے حدیث رسول دوبارہ دہرائی اور پھر بشیر نے بھی اپنی بات دہرا دی۔راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ اس قدر غصے میں آ گئے کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئی اور بولے: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنا رہا ہوں اور تو مجھے اپنی کتابوں سے بتائے جا رہا ہے۔ہم نے کہا: اے ابونجید! بس کیجئیے۔بس کیجئیے۔(اسے یہ تنبیہ کافی ہے)۔