Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4806 (سنن أبي داود)

[4806]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (4900)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ،حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ،عَنْ أَبِي نَضْرَةَ،عَنْ مُطَرِّفٍ،قَالَ: قَالَ أَبِي انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقُلْنَا: أَنْتَ سَيِّدُنَا،فَقَالَ: السَّيِّدُ اللہُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی،قُلْنَا: وَأَفْضَلُنَا فَضْلًا،وَأَعْظَمُنَا طَوْلًا،فَقَالَ: قُولُوا بِقَوْلِكُمْ أَوْ بَعْضِ قَوْلِكُمْ،وَلَا يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ.

جناب مطرف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ میں بنو عامر کے وفد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔تو ہم نے کہا: آپ ہمارے (سید) سردار ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’سید (اور حقیقی سردار) اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔‘‘ ہم نے کہا: آپ ﷺ ہمارے صاحب فضل و فضیلت اور صاحب جود و سخا ہیں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم اس طرح کی بات کہہ سکتے ہو۔مگر کہیں شیطان تمہیں اپنا وکیل نہ بنا لے (کہ کوئی ایسی بات کہہ گزرو جو میری شان کے مطابق نہ ہو)۔‘‘