Sunan Abi Dawood Hadith 4808 (سنن أبي داود)
[4808]صحیح
انظر الحدیث السابق (2478)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ, وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ, وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ, قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ،عَنْ أَبِيہِ, قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْبَدَاوَةِ, فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَبْدُو إِلَی ہَذِہِ التِّلَاعِ،وَإِنَّہُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً،فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ،فَقَالَ لِي: يَا عَائِشَةُ! ارْفُقِي, فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَہُ،وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَہُ. قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ فِي حَدِيثِہِ مُحَرَّمَةٌ-يَعْنِي: لَمْ تُرْكَبْ-.
جناب مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ جنگل میں جانا کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ان ٹیلوں کی طرف نکل جایا کرتے تھے۔آپ ﷺ نے ایک بار ارادہ کیا کہ جنگل میں جائیں تو آپ ﷺ نے میرے پاس صدقہ کی اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی جس پر ابھی سواری نہیں ہوئی تھی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! نرمی اختیار کیا کرو ‘ بلاشبہ نرمی جس چیز میں بھی ہو وہ اسے مزین اور خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جائے اسے بدصورت اور بھدا بنا دیتی ہے۔‘‘ ابن صباح نے اپنی حدیث میں واضح کیا کہ ((محرمۃ)) سے مراد ایسی اونٹنی ہے جس پر باقاعدہ سواری نہ ہوئی ہو۔