Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4815 (سنن أبي داود)

[4815]صحیح

صحیح بخاری (2465) صحیح مسلم (2121)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ،عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! مَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيہَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّہُ،قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللہِ؟! قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ،وَكَفُّ الْأَذَی،وَرَدُّ السَّلَامِ،وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ،وَالنَّہْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’راستوں پر بیٹھنے سے احتراز کرو۔‘‘ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں تو اس سے چارہ نہیں ہے ‘ ہم نے آپس میں بات چیت کرنی ہوتی ہے ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اگر اس سے انکار کرتے ہو تو پھر راستے کے حق کا خیال رکھو۔‘‘ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! راستے کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نظر نیچی رکھنا ‘ تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا ‘ سلام کا جواب دینا ‘ بھلی بات کہنا اور برائی سے روکنا۔‘‘