Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 486 (سنن أبي داود)

[486]صحیح

صحیح بخاری (63)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ،حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ،عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ،فَأَنَاخَہُ فِي الْمَسْجِدِ،ثُمَّ عَقَلَہُ،ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟!-وَرَسُولُ اللہِ ﷺ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَہْرَانَيْہِمْ-،فَقُلْنَا لَہُ: ہَذَا الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ،فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَقَالَ لَہُ ﷺ: قَدْ أَجَبْتُكَ. فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ! إِنِّي سَائِلُكَ... وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا ‘ وہ اونٹ پر تھا،اس نے اونٹ کو مسجد (کے احاطے) میں بٹھایا،پھر اسے باندھا،پھر کہا: تم میں سے ’’محمد‘‘ کون ہے؟ جب کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ہم نے کہا کہ یہ جو گورا چٹا شخص ٹیک لگائے ہوئے ہیں (یہی محمد ﷺ ہیں) تو اس آدمی نے آپ سے کہا: اے ابن عبدالمطلب! آپ نے فرمایا ’’جواب دے رہا ہوں۔‘‘ اس نے کہا: اے محمد! میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں،اور حدیث بیان کی۔