Sunan Abi Dawood Hadith 4881 (سنن أبي داود)
[4881] ضعیف
بقیۃ مدلس ولم یصرح بالسماع وقال الحافظ: ’’صدوق کثیر التدلیس عن الضعفاء‘‘ (تقریب: 734)
وللحدیث شاہد ضعیف عند أحمد (229/4) و الحاکم (127/4،128) فیہ ابن جریج وعنعن ولم یصرح بالسماع إلا في روایۃ سفیان بن وکیع عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ،حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ مَكْحُولٍ،عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ،أَنَّہُ حَدَّثَہُ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً, فَإِنَّ اللہَ يُطْعِمُہُ مِثْلَہَا مِنْ جَہَنَّمَ،وَمَنْ كُسِيَ ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ, فَإِنَّ اللہَ يَكْسُوہُ مِثْلَہُ مِنْ جَہَنَّمَ،وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ, فَإِنَّ اللہَ يَقُومُ بِہِ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
سیدنا مستورد (مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جس نے کسی مسلمان کی وجہ سے ایک بھی لقمہ کھایا ہو گا (اس کی غیبت یا ہتک وغیرہ کر کے کسی سے کوئی عوض لیا ہو گا) تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اسی طرح کا لقمہ کھلائے گا۔اور جسے کسی مسلمان کی وجہ سے کوئی کپڑا پہنایا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اسی طرح کا کپڑا پہنائے گا۔اور جس نے کسی کی تشہیر کی اور اسے دکھلاوے کے مقام پر پہنچایا ہو (اس کا چرچا کیا ہو) تو اللہ قیامت کے روز اس کی تشہیر کرے گا اور دکھلاوے کے مقام پر کھڑا کرے گا۔‘‘ (ایسا عذاب دے گا یا ایسی جگہ عذاب دے گا کہ اس کا سب لوگوں میں چرچا ہو گا)۔