Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 490 (سنن أبي داود)

[490] إسنادہ ضعیف

روایۃ أبي صالح الغفاري: سعید بن عبد الرحمٰن عن علي مرسلۃ،قالہ ابن یونس المصري،انظر التقریب (2356) وتاریخ ابن یونس المصري (1/ 208 ت 554) وتحفۃ التحصیل (ص 125)

انوار الصحیفہ ص 31

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ،أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَہِيعَةَ وَيَحْيَی بْنُ أَزْہَرَ،عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِيِّ،عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ،أَنَّ عَلِيًّا-رَضِي اللہُ عَنْہُ-مَرَّ بِبَابِلَ وَہُوَ يَسِيرُ،فَجَاءَہُ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ،فَلَمَّا بَرَزَ مِنْہَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ،فَأَقَامَ الصَّلَاةَ،فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: إِنَّ حَبِيبِي صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ نَہَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَقْبَرَةِ،وَنَہَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي أَرْضِ بَابِلَ،فَإِنَّہَا مَلْعُونَةٌ.

جناب ابوصالح غفاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزر کر جا رہے تھے تو مؤذن ان کے پاس آیا اور انہیں نماز عصر کی اطلاع دی مگر جب وہ اس سے باہر نکل گئے تو انہوں نے مؤذن کو حکم دیا اور اس نے نماز کی اقامت کہی،جب فارغ ہوئے تو فرمانے لگے: میرے حبیب علیہ السلام نے مجھے قبرستان اور سر زمین بابل میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ ملعون ہے۔