Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 499 (سنن أبي داود)

[499]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (650)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ،حَدَّثَنَا أَبِي،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللہِ بْنُ زَيْدٍ،قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِالنَّاقُوسِ-يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِہِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ-طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِہِ،فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللہِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟! قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِہِ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِہِ إِلَی الصَّلَاةِ،قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَی مَا ہُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟! فَقُلْتُ لَہُ: بَلَی،قَالَ: فَقَالَ: تَقُول: لَّہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ،اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ،أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ،حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ،حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ،اللہُ أَكْبَرُ،اللہُ أَكْبَرُ،لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ. قَالَ: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ،ثُمَّ قَالَ: وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ،حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ،قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ،اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ،لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ. فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَأَخْبَرْتُہُ بِمَا رَأَيْتُ،فَقَالَ: إِنَّہَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللہُ،فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْہِ مَا رَأَيْتَ،فَلْيُؤَذِّنْ بِہِ, فَإِنَّہُ أَنْدَی صَوْتًا مِنْكَ. فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ،فَجَعَلْتُ أُلْقِيہِ عَلَيْہِ وَيُؤَذِّنُ بِہِ،قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَہُوَ فِي بَيْتِہِ،فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَہُ وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللہِ،لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَی،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: فَلِلَّہِ الْحَمْدُ. قَالَ أَبو دَاوُدَ: ہَكَذَا رِوَايَةُ الزُّہْرِيِّ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَيْدٍ وقَالَ فِيہِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِيِّ: اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ،اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ. و قَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّہْرِيِّ فِيہِ: اللہُ أَكْبَرُ،اللہُ أَكْبَرُ،لَمْ يُثَنِّيَا.

جناب محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد سیدنا عبداللہ بن زید نے بتایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس سے ایک آدمی گزر رہا ہے،ہاتھ میں ناقوس لیے ہوئے ہے۔میں نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس بیچے گا؟ اس نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس سے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے۔وہ کہنے لگا: کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں جو اس سے زیادہ بہتر ہے۔میں نے کہا: کیوں نہیں۔اس نے کہا: تم یوں کہا کرو ((اللہ أکبر اللہ أکبر اللہ أکبر اللہ أکبر أشہد أن لا إلہ إلا اللہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ أشہد أن محمدا رسول اللہ أشہد أن محمدا رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح اللہ أکبر اللہ أکبر لا إلہ إلا اللہ)) ’’اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔آؤ نماز کی طرف۔آؤ نماز کی طرف۔آؤ کامیابی کی طرف۔آؤ کامیابی کی طرف۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔‘‘ پھر وہ مجھ سے کچھ پیچھے ہٹ گیا اور کہا جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو یوں کہو: ((اللہ أکبر اللہ أکبر أشہد أن لا إلہ إلا اللہ أشہد أن محمدا رسول اللہ حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ اللہ أکبر اللہ أکبر لا إلہ إلا اللہ)) نماز کھڑی ہو گئی ہے۔نماز کھڑی ہو گئی ہے۔جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ خواب میں دیکھا تھا آپ ﷺ کو بتلایا۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ انشاء اللہ سچا خواب ہے۔تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اسے وہ کلمات بتاتے جاؤ جو تم نے دیکھے ہیں۔وہ اذان کہے گا کیونکہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز والا ہے۔‘‘ چنانچہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور انہیں وہ الفاظ بتاتا گیا اور وہ اذان کہتے گئے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تھے،انہوں نے اسے سنا تو (جلدی سے) چادر گھسیٹتے ہوئے آئے،کہنے لگے: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے،اے اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جیسے کہ اسے دکھایا گیا ہے،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زہری کی سعید بن مسیب سے اور ان کی عبداللہ بن زید سے روایت ایسے ہی ہے۔اس میں ابن اسحاق نے زہری سے یہی الفاظ نقل کیے ہیں: ((اللہ أکبر اللہ أکبر اللہ أکبر اللہ أکبر)) جبکہ معمر اور یونس،زہری سے (صرف) ((اللہ أکبر اللہ أکبر)) روایت کیا ہے۔انہوں نے دہرا کر ذکر نہیں کیا۔