Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 507 (سنن أبي داود)

[507] إسنادہ ضعیف

عبد الرحمٰن بن أبي لیلی لم یسمع من معاذ بن جبل رضي اللہ عنہ،انظر سنن الترمذي (3452)

انوار الصحیفہ ص 32

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،عَنْ أَبِي دَاوُدَ ح،وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُہَاجِرِ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَی،عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ،وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ... وَسَاقَ نَصْرٌ الْحَدِيثَ بِطُولِہِ. وَاقْتَصَّ ابْنُ الْمُثَنَّی مِنْہُ قِصَّةَ صَلَاتِہِمْ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَطْ قَالَ: الْحَالُ الثَّالِثُ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّی –يَعْنِي: نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ-ثَلَاثَةَ عَشَرَ شَہْرًا،فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی ہَذِہِ الْآيَةَ: قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَكُمْ شَطْرَہُ[البقرة: 144]،فَوَجَّہَہُ اللہُ تَعَالَی إِلَی الْكَعْبَةِ. وَتَمَّ حَدِيثُہُ وَسَمَّی نَصْرٌ صَاحِبَ الرُّؤْيَا قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ اللہِ بْنُ زَيْدٍ-رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ-،وَقَالَ فِيہِ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ،قَالَ: اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ،أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ،حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ –مَرَّتَيْنِ-،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ –مَرَّتَيْن-،ِ اللہُ أَكْبَرُ اللہُ أَكْبَرُ،لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،ثُمَّ أَمْہَلَ ہُنَيَّةً،ثُمَّ قَامَ،فَقَالَ مِثْلَہَا, إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: زَادَ بَعْدَ مَا قَالَ: حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ،قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَقِّنْہَا بِلَالًا،فَأَذَّنَ بِہَا بِلَالٌ. وقَالَ فِي الصَّوْمِ: قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَہْرٍ،وَيَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ،فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُم-إِلَی قَوْلِہ-ِطَعَامُ مِسْكِينٍ[البقرة: 183-184], فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ صَامَ،وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُفْطِرَ وَيُطْعِمَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا أَجْزَأَہُ ذَلِكَ،وَہَذَا حَوْلٌ،فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيہِ الْقُرْآنُ-إِلَی-أَيَّامٍ أُخَرَ،[البقرة: 185], فَثَبَتَ الصِّيَامُ عَلَی مَنْ شَہِدَ الشَّہْرَ،وَعَلَی الْمُسَافِرِ أَنْ يَقْضِيَ،وَثَبَتَ الطَّعَامُ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ اللَّذَيْنِ لَا يَسْتَطِيعَانِ الصَّوْمَ. وَجَاءَ صِرْمَةُ وَقَدْ عَمِلَ يَوْمَہُ.... وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

ابن ابی لیلیٰ،سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نماز اور روزے کے احوال میں تین تین تبدیلیاں آئی ہیں۔نصر نے تفصیل سے حدیث بیان کی۔اور ابن مثنی نے اس میں سے صرف نماز کے متعلق بیان کیا کہ لوگ پہلے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے (اس) تیسرے حال کی تفصیل اس طرح بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ مدینے میں آئے اور تیرہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے،تب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ ((قد نری تقلب وجہک فی السماء فلنولینک قبلۃ ترضاہا فول وجہک شطر المسجد الحرام وحیث ما کنتم فولوا وجوہکم شطرہ)) ’’بیشک ہم آپ کا آسمان کی طرف بار بار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں تو ہم بالضرور آپ کا رخ آپ کے پسندیدہ قبلے کی طرف کر دیں گے،تو آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی جانب کر لیجئیے اور تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو اپنا رخ اسی کی طرف کیا کرو۔‘‘ نازل فرمائی۔الغرض اللہ تعالیٰ نے آپ کا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا۔اور (ابن مثنی کی) حدیث (یہاں) مکمل ہو گئی۔اور نصر بن مہاجر نے صاحب خواب کا نام ذکر کیا اور کہا کہ عبداللہ بن زید کے پاس ایک آدمی آیا جو کہ انصار میں سے تھا،اسی (نصر) کی روایت میں ہے۔چنانچہ وہ آدمی (خواب میں) قبلہ رخ ہوا اور کہا ((اللہ أکبر اللہ أکبر أشہد أن لا إلہ إلا اللہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ أشہد أن محمدا رسول اللہ أشہد أن محمدا رسول اللہ حی علی الصلاۃ)) دو بار ((حی علی الفلاح)) دو بار ((اللہ أکبر اللہ أکبر لا إلہ إلا اللہ)) پھر کچھ دیر ٹھہرا،پھر کھڑا ہوا اور اسی طرح کہا،مگر ((حی علی الفلاح)) کے بعد ((قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ)) کہا۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ سب بلال کو بتاؤ۔‘‘ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔اور روزے کے بارے میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین روزے اور عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے۔تب اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا ((کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم)) ’’تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔گنتی کے ایام ہیں،تو جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں تو دوسرے دنوں میں ان کی گنتی پوری کرے اور جو اس کی طاقت رکھتے ہیں (اور روزہ نہیں رکھنا چاہتے) تو ان پر ایک مسکین کا طعام ہے۔‘‘ چنانچہ جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا چھوڑ دیتا اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہ اس کے لیے کافی ہوتا تھا۔یہ ایک حال ہوا۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا ((شہر رمضان الذی أنزل فیہ القرآن)) ’’رمضان کا مہینہ ایسا ہے کہ اس میں قرآن نازل کیا گیا۔لوگوں کے لیے ہدایت ہے (جس میں) ہدایت کی روشن دلیلیں ہیں اور (حق و باطل میں) فرق کرنے والا ہے۔سو تم میں سے جو اس مہینے کو پائے تو وہ اس کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا مسافر تو دوسرے دنوں میں اس کی گنتی پوری کرے۔‘‘ اس سے لازم آیا کہ جو اس مہینے کو پائے اور مقیم ہو روزہ رکھے اور مسافر قضاء کرے۔بوڑھا کھوسٹ اور بڑھیا جو روزے کی طاقت نہیں رکھتے ان کے ذمے کھانا کھلانا ہوا۔چنانچہ سیدنا صرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور وہ سارا دن کام کرتے رہے تھے۔اور (نصر بن مہاجر نے) حدیث بیان کی۔