Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 512 (سنن أبي داود)

[512] إسنادہ ضعیف

محمد بن عمرو ھو أبو سھل کما في مسند الإمام أحمد (42/4) وھو ضعیف

وللحدیث شاھد ضعیف عند البیہقي (399/1)

انوار الصحیفہ ص 32

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ عَمِّہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَيْدٍ،قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ ﷺ فِي الْأَذَانِ أَشْيَاءَ لَمْ يَصْنَعْ مِنْہَا شَيْئًا،قَالَ: فَأُرِيَ عَبْدُ اللہِ بْنُ زَيْدٍ الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ،فَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ فَأَخْبَرَہُ،فَقَال:َ أَلْقِہِ عَلَی بِلَالٍ،فَأَلْقَاہُ عَلَيْہِ،فَأَذَّنَ بِلَالٌ،فَقَالَ عَبْدُ اللہِ: أَنَا رَأَيْتُہُ،وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُہُ،قَالَ: فَأَقِمْ أَنْتَ.

جناب محمد بن عبداللہ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے (شروع میں) اذان کے متعلق کچھ چیزوں کا ارادہ فرمایا مگر ان پر عمل نہ کیا۔چنانچہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھلائی گئی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو خبر دی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ کلمات بلال کو بتاؤ۔‘‘ چنانچہ انہوں نے بتائے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔عبداللہ نے کہا: میں نے یہ خواب دیکھا اور میں اس کا خواہشمند تھا فرمایا ’’تم اقامت کہہ لو۔‘‘