Sunan Abi Dawood Hadith 5129 (سنن أبي داود)
[5129]صحیح
صحیح مسلم (1893)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ،عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ،قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي أُبْدِعَ بِي،فَاحْمِلْنِي! قَالَ: لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْہِ،وَلَكِنِ ائْتِ فُلَانًا, فَلَعَلَّہُ أَنْ يَحْمِلَكَ،فَأَتَاہُ،فَحَمَلَہُ،فَأَتَی رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَأَخْبَرَہُ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَنْ دَلَّ عَلَی خَيْرٍ, فَلَہُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہِ.
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اﷲ کے رسول! میری سواری نہیں رہی ‘ مجھے سواری عنایت فرمائیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میرے پاس تو کوئی ایسی سواری نہیں جو میں تمہیں دے سکوں۔لیکن فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ،شاید وہ تمہیں کوئی سواری دیدے۔‘‘ چنانچہ وہ اس کے پاس چلا گیا اور اس نے اسے سواری دے دی۔پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آ کر آپ ﷺ کو بتایا (کہ اس نے سواری دے دی ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص کسی خیر کی رہنمائی کرے،اسے بھی بھلائی کرنے والے کی مانند ثواب ملتا ہے۔‘‘