Sunan Abi Dawood Hadith 514 (سنن أبي داود)
[514] إسنادہ ضعیف
ترمذی (199) ابن ماجہ (717)
الإ فریقي ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ يَعْنِي الْأَفْرِيقِيَّ أَنَّہُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ أَنَّہُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ،قَالَ: لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ،أَمَرَنِي-يَعْنِي: النَّبِيَّ ﷺ-،فَأَذَّنْتُ فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللہِ؟ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَی نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَی الْفَجْرِ،فَيَقُولُ: لَا, حَتَّی إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ،نَزَلَ فَبَرَزَ،ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ،وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُہُ،-يَعْنِي: فَتَوَضَّأَ-،فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ،فَقَالَ لَہُ نَبِيُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ ہُوَ أَذَّنَ،وَمَنْ أَذَّنَ فَہُوَ يُقِيمُ. قَالَ: فَأَقَمْتُ.
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اذان کہی۔پھر میں کہنے لگا،اے اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ مگر آپ ﷺ مشرق کی جانب فجر کو دیکھتے اور فرماتے ’’نہیں۔‘‘ حتیٰ کہ جب فجر (اچھی طرح) طلوع ہو گئی تو آپ ﷺ اپنی سواری سے اترے اور وضو کیا،پھر آپ ﷺ میری طرف آئے اور اس اثنا میں آپ ﷺ کے صحابہ بھی آپ کو آ ملے (برز سے مراد ہے)،آپ نے وضو کیا۔سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا۔تو نبی کریم ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’اس صدائی نے اذان کہی ہے اور جو اذان کہے وہی اقامت کہے۔‘‘ چنانچہ میں نے اقامت کہی۔