Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 516 (سنن أبي داود)

[516]صحیح

صحیح بخاری (608) صحیح مسلم (389)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَال:َ إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَہُ ضُرَاطٌ،حَتَّی لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ،فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ،حَتَّی إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ،حَتَّی إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ،حَتَّی يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِہِ،وَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا،اذْكُرْ كَذَا،لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ،حَتَّی يَضِلَّ الرَّجُلُ أَنْ يَدْرِيَ كَمْ صَلَّی.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر پاد مارتا ہوا پلٹ جاتا ہے۔(اور اتنی دور چلا جاتا ہے) حتیٰ کہ اذان نہیں سنتا۔جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو لوٹ آتا ہے۔پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے۔اور جب اقامت ہو جاتی ہے تو لوٹ آتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے خیالات ڈالتا ہے اور کہتا ہے: یہ یاد کر،ایسی ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہ آتی ہوں۔حتیٰ کہ آدمی کو خیال ہی نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔‘‘