Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 519 (سنن أبي داود)

[519]حسن

محمد بن اسحاق بن یسار صرح بالسماع فی السیرۃ لابن ہشام (2/ 156، بتحقیقی) وقال الحافظ فی الدرایۃ (1/ 120): ’’إسنادہ حسن‘‘

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ،حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعْدٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ،قَالَتْ: كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ،وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْہِ الْفَجْرَ،فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَی الْبَيْتِ،يَنْظُرُ إِلَی الْفَجْرِ،فَإِذَا رَآہُ تَمَطَّی،ثُمَّ قَال:َ اللہُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَی قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ،قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ،قَالَتْ: وَاللہِ مَا عَلِمْتُہُ كَانَ تَرَكَہَا لَيْلَةً وَاحِدَةً. –تَعْنِي: ہَذِہِ الْكَلِمَاتِ-.

بنو نجار کی ایک خاتون سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میرا گھر مسجد کے اطراف کے گھروں میں سب سے اونچا تھا۔سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فجر کی اذان اسی پر آ کر دیا کرتے تھے۔وہ سحر کے وقت آ کر اس پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے جب صبح کو طلوع ہوتا دیکھتے تو انگڑائی لیتے اور کہتے: اے اللہ! میں تیری تعریف کرتا ہوں اور قریش پر تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں۔وہ بیان کرتیں ہیں کہ پھر اذان کہتے۔قسم اللہ کی! مجھے نہیں معلوم کے بلال نے کسی رات بھی یہ کلمات چھوڑے ہوں۔