Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 538 (سنن أبي داود)

[538] إسنادہ ضعیف

أبو یحیی القتات ضعیف ولم یثبت عن أحمد بأنہ قال فیہ: ’’وأما حدیث سفیان عنہ فمقارب‘‘. وانظر (ح 4069)

قال تنویر الحق الترمذي: الخضربن داود: وثقہ ابن عبد البر فی التمہید (17/ 198)

فالقول أحمد بن حنبل ثبت عنہ،فأما أبو یحیی القتات حسن الحدیث عن الثوری،وانظر الضعفاء الکبیر للعقیلی (2/ 330 وسندہ حسن)

انوار الصحیفہ ص 33

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَی الْقَتَّاتُ،عَنْ مُجَاہِدٍ،قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ،فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّہْرِ أَوِ الْعَصْرِ،قَالَ: اخْرُجْ بِنَا, فَإِنَّ ہَذِہِ بِدْعَةٌ .

جناب مجاہد کہتے ہیں کہ میں (ایک بار) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے ظہر یا عصر میں تثویب کی (یعنی اذان کے بعد دوبارہ اعلان کیا) تو انہوں نے فرمایا مجھے یہاں سے لے چلو،بیشک یہ بدعت ہے۔