Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 542 (سنن أبي داود)

[542]صحیح

صحیح بخاری (643)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی،عَنْ حُمَيْدٍ،قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ؟ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ،فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ رَجُلٌ, فَحَبَسَہُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ.

جناب حمید کہتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانی سے پوچھا کہ کوئی آدمی اقامت ہو جانے کے بعد کسی سے کوئی بات کرے (تو کیسا ہے؟) تو انہوں نے مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنائی کہ (ایک بار) نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک آدمی آ گیا اور اس نے آپ ﷺ کو (کچھ دیر کے لیے) روکے رکھا،جبکہ اقامت کہی جا چکی تھی۔