Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 549 (سنن أبي داود)

[549]صحیح

صحیح مسلم (651)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ،حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ،حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ،قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَيْرَةَ،يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمًا مِنْ حَطَبٍ،ثُمَّ أَاتِيَ قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي بُيُوتِہِمْ لَيْسَتْ بِہِمْ عِلَّةٌ, فَأُحَرِّقَہَا عَلَيْہِمْ. قُلْتُ لِيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ: يَا أَبَا عَوْفٍ الْجُمُعَةَ عَنَی؟ أَوْ غَيْرَہَا؟! قَالَ: صُمَّتَا أُذُنَايَ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَيْرَةَ يَأْثُرُہُ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،مَا ذَكَرَ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَہَا.

جناب یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا،وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میرا جی چاہتا ہے کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھے اکٹھے کریں،پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں جو اپنے گھروں میں نمازیں پڑھتے ہیں،حالانکہ انہیں کوئی عذر نہیں ہے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔‘‘ (یزید بن یزید نے کہا) میں نے (اپنے شیخ) یزید بن اصم سے کہا: اے ابوعوف! اس سے آپ کی مراد جمعہ (کی نماز) تھی یا کچھ اور؟ انہوں نے کہا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتے ہوئے نہ سنا ہو۔انہوں نے جمعہ یا دوسری نماز کا ذکر نہیں کیا۔(یعنی کوئی تخصیص نہیں،جمعہ سمیت تمام نمازوں کی جماعت کا مسئلہ ہے)۔