Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 552 (سنن أبي داود)

[552] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (792)

في سماع أبي رزین مسعود بن مالک من ابن أم مکتوم نظر

وحدیث مسلم (653) وأحمد (3/ 423) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 33

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَةَ،عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ،أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ،شَاسِعُ الدَّارِ،وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي،فَہَلْ لِي رُخْصَةٌ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟! قَالَ: ہَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ،قَالَ: لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً.

سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نابینا آدمی ہوں،گھر دور ہے اور میرا قائد (ہاتھ پکڑ کر لانے والا) میری مدد نہیں کرتا،تو کیا میرے لیے رخصت ہے کہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا اذان سنتے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا۔‘‘