Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 553 (سنن أبي داود)

[553] إسنادہ ضعیف

نسائی (852)

سفیان الثوري عنعن

وحدیث مسلم (653) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 33، 34

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ،حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ،قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْہَوَامِّ وَالسِّبَاعِ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَتَسْمَعُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ،حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ؟! فَحَيَّ ہَلًا. قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَا رَوَاہُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ عَنْ سُفْيَانَ،لَيْسَ فِي حَدِيثِہِ حَيَّ ہَلًا.

سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے اور درندے بہت زیادہ ہیں۔(کیا میرے لیے رخصت ہے کہ گھر میں نماز پڑھ لیا کروں؟) تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ((حی علی الصلاۃ)) اور ((حی علی الفلاح)) (کی آواز) سنتے ہو تو ضرور آؤ۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: قاسم جرمی نے بھی سفیان سے ایسے ہی روایت کیا ہے اور اس کی روایت میں عربی ((حی ہلا)) /عربی ’’ضرور آؤ۔“ کے لفظ نہیں ہیں۔