Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 554 (سنن أبي داود)

[554]صحیح

أخرجہ النسائي (844) وسندہ حسن، وصححہ ابن خزیمۃ (1447) وللحدیث شواھد عند الطبراني فی المعجم الکبیر (19/36 ح 74) وغیرہ، وأبو إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (5/140) مشکوۃ المصابیح (1066)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ،عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ يَوْمًا الصُّبْحَ،فَقَالَ: أَشَاہِدٌ فُلَانٌ؟،قَالُوا: لَا،قَالَ: أَشَاہِدٌ فُلَانٌ؟،قَالُوا: لَا،قَالَ: إِنَّ ہَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَی الْمُنَافِقِينَ،وَلَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِيہِمَا لَأَتَيْتُمُوہُمَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الرُّكَبِ،وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ،وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُہُ لَابْتَدَرْتُمُوہُ،وَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَی مِنْ صَلَاتِہِ وَحْدَہُ،وَصَلَاتُہُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَی مِنْ صَلَاتِہِ مَعَ الرَّجُلِ،وَمَا كَثُرَ فَہُوَ أَحَبُّ إِلَی اللہِ تَعَالَی.

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اس کے بعد فرمایا ’’کیا فلاں حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا فلاں حاضر ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ یہ دو نمازیں منافقوں پر سب نمازوں سے بھاری ہیں (یعنی فجر اور عشاء کی نماز) اور اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان میں کیا کچھ اجر و ثواب ہے تو تم ان میں ضرور آؤ،اگرچہ گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑے۔اور پہلی صف (اجر و ثواب میں) فرشتوں کی صف کی مانند ہے۔اگر تمہیں اس کی فضیلت معلوم ہو تو اس کے لیے ضرور سبقت کرو۔انسان کی نماز ایک آدمی کے ساتھ زیادہ اجر و ثواب والی ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ اکیلا پڑھے۔اور اس کی نماز دو آدمیوں کے ساتھ زیادہ فضیلت والی ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ ایک آدمی کے ساتھ مل کر پڑھے۔جس قدر اہل جماعت کی تعداد زیادہ ہو گی وہ زیادہ پاکیزہ اور اللہ کو بہت زیادہ محبوب ہے۔‘‘