Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 557 (سنن أبي داود)

[557]صحیح

صحیح مسلم (663)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ حَدَّثَہُ،عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،قَالَ: كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ،وَكَانَ لَا تُخْطِئُہُ صَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ،فَقُلْتُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُہُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ! فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَی جَنْبِ الْمَسْجِدِ. فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَسَأَلَہُ عَنْ قَوْلِہِ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللہِ! أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَی الْمَسْجِدِ،وَرُجُوعِي إِلَی أَہْلِي إِذَا رَجَعْتُ،فَقَالَ: أَعْطَاكَ اللہُ ذَلِكَ كُلَّہُ،أَنْطَاكَ اللہُ جَلَّ وَعَزَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّہُ أَجْمَعَ.

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص تھا،جہاں تک میں جانتا ہوں،اہل مدینہ میں قبلہ رو ہو کر نماز پڑھنے والوں میں اس کا گھر سب سے دور تھا اور مسجد میں کوئی نماز بھی اس سے نہ چوکتی تھی۔میں نے اس سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیں،گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہوں (تو سہولت رہے)-اس نے کہا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے قریب ہو۔اس کی یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی۔آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نیت یہ ہے کہ میرا مسجد میں آنا اور یہاں سے گھر واپس جانا سب ہی لکھا جائے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ نے تمہیں یہ سب عطا فرما دیا۔جس اجر و ثواب کی تو نے امید کی ہے اللہ نے وہ سب عنایت فرما دیا۔‘‘