Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 575 (سنن أبي داود)

[575]إسنادہ صحیح

صححہ ابن خزیمۃ (1279 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (1152)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،أَخْبَرَنِي يَعْلَی بْنُ عَطَاءٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ،عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَہُوَ غُلَامٌ شَابٌّ،فَلَمَّا صَلَّی إِذَا رَجُلَانِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ،فَدَعَا بِہِمَا،فَجِئَ بِہِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُہُمَا،فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟،قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا،فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا،إِذَا صَلَّی أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِہِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ فَلْيُصَلِّ مَعَہُ, فَإِنَّہَا لَہُ نَافِلَةٌ.

جناب جابر بن یزید بن اسود اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز پڑھی جبکہ وہ نوجوان تھے۔جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو دیکھا کہ دو آدمی مسجد کی ایک جانب میں موجود ہیں اور انہوں نے (جماعت کے ساتھ) نماز نہیں پڑھی۔آپ ﷺ نے انہیں بلوایا۔انہیں آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو ان کی یہ حالت تھی کہ ان کے پٹھے کانپ رہے تھے۔آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کیا رکاوٹ تھی کہ ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟“ انہوں نے کہا: ہم اپنی منزل میں نماز پڑھ آئے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ایسے نہ کیا کرو۔جب تم میں سے کوئی اپنی منزل میں نماز پڑھ چکا ہو پھر امام کو پائے کہ اس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے تو اس کے ساتھ بھی مل کر پڑھے،یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔‘‘