Sunan Abi Dawood Hadith 577 (سنن أبي داود)
[577] إسنادہ ضعیف
نوح بن صعصعۃ: مجہول الحال،لم یوثقہ غیر ابن حبان و ضعفہ الإمام الدار قطني،وقال فی التقریب: ’’مستور‘‘ (7208)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَی،عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ،عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ،قَالَ: جِئْتُ وَالنَّبِيُّ ﷺ فِي الصَّلَاةِ،فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَہُمْ فِي الصَّلَاةِ،قَالَ: فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَرَأَی يَزِيدَ جَالِسًا،فَقَالَ: أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ؟!،قَالَ بَلَی يَا رَسُولَ اللہِ! قَدْ أَسْلَمْتُ،قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِہِمْ؟. قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ،فَقَالَ: إِذَا جِئْتَ إِلَی الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَہُمْ،وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ, تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَہَذِہِ مَكْتُوبَةٌ.
سیدنا یزید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں آیا اور نبی کریم ﷺ نماز میں تھے،میں بیٹھ گیا،ان کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا۔پھر آپ ﷺ فارغ ہوئے تو ہماری طرف رخ کیا اور مجھے بیٹھے دیکھا تو پوچھا: ’’یزید! کیا تم مسلمان نہیں ہوئے ہو؟‘‘ میں نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے،آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو تمہیں کیا ہوا کہ تم لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوئے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ کر آیا ہوں اور میرا خیال تھا کہ شاید آپ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’جب تم نماز کے لیے آؤ اور لوگوں کو نماز میں پاؤ تو ان کے ساتھ مل کر پڑھو اگرچہ اکیلے پڑھ چکے ہو،یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی اور وہ (پہلی نماز) فرض۔‘‘