Sunan Abi Dawood Hadith 578 (سنن أبي داود)
[578] إسنادہ ضعیف
رجل من بني أسد: مجہول لم یسم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ, قَالَك قَرَأْتُ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ, قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو،عَنْ بُكَيْرٍ, أَنَّہُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيِّبِ, يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ،أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ،فَقَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِہِ الصَّلَاةَ،ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ،وَتُقَامُ الصَّلَاةُ،فَأُصَلِّي مَعَہُمْ،فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا؟! فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ؟ فَقَالَ: ذَلِكَ لَہُ سَہْمُ جَمْعٍ.
جناب عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھے بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا کہ ہم میں سے ایک اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے اور پھر مسجد میں آتا ہے اور نماز کی اقامت ہو جاتی ہے تو میں ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیتا ہوں مگر اس سے میرے دل میں کچھ کھٹک سی ہے۔سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ اس کے لیے جماعت کا ایک حصہ ہے۔‘‘ (یعنی اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث ثواب ہے)۔