Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 582 (سنن أبي داود)

[582]صحیح

صحیح مسلم (673)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ،عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُہُمْ لِكِتَابِ اللہِ وَأَقْدَمُہُمْ قِرَاءَةً, فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً, فَلْيَؤُمَّہُمْ أَقْدَمُہُمْ ہِجْرَةً, فَإِنْ كَانُوا فِي الْہِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّہُمْ أَكْبَرُہُمْ سِنًّا،وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِہِ،وَلَا فِي سُلْطَانِہِ،وَلَا يُجْلَسُ عَلَی تَكْرِمَتِہِ, إِلَّا بِإِذْنِہِ. قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ: مَا تَكْرِمَتُہُ؟ قَالَ: فِرَاشُہُ.

سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’قوم کی وہ شخص امامت کرائے جو قرآن کریم کا بڑا اور پرانا قاری ہو۔اگر وہ قرآت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرائے جو ہجرت کرنے میں اول ہو۔اگر ہجرت میں برابر ہوں تو بڑی عمر والا امامت کرائے۔اور کوئی شخص کسی دوسرے کے گھر میں امامت کرائے،نہ اس کی حکومت کی جگہ میں اور نہ اس کی خاص مسند ہی پر بیٹھے (جو اس کی عزت کی جگہ ہو) الا یہ کہ وہ اجازت دے۔‘‘ شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے اسماعیل سے پوچھا ’’((تکرمتہ)) کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: ’’اس کا بستر۔‘‘