Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 591 (سنن أبي داود)

[591]إسنادہ حسن

صححہ ابن خزیمۃ (1676 وسندہ حسن)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ جُمَيْعٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ،عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللہِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا غَزَا بَدْرًا،قَالَتْ: قُلْتُ لَہُ: يَا رَسُولَ اللہِ! ائْذَنْ لِي فِي الْغَزْوِ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ, لَعَلَّ اللہَ أَنْ يَرْزُقَنِي شَہَادَةً؟ قَالَ: قَرِّي فِي بَيْتِكِ, فَإِنَّ اللہَ تَعَالَی يَرْزُقُكِ الشَّہَادَةَ. قَالَ: فَكَانَتْ تُسَمَّی الشَّہِيدَةُ،قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ قَرَأَتِ الْقُرْآنَ فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ ﷺ،أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِہَا مُؤَذِّنًا،فَأَذِنَ لَہَا،قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ دَبَّرَتْ غُلَامًا لَہَا وَجَارِيَةً،فَقَامَا إِلَيْہَا بِاللَّيْلِ،فَغَمَّاہَا بِقَطِيفَةٍ لَہَا،حَتَّی مَاتَتْ،وَذَہَبَا،فَأَصْبَحَ عُمَرُ،فَقَامَ فِي النَّاسِ،فَقَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَہُ مِنْ ہَذَيْنِ عِلْمٌ،أَوْ مَنْ رَآہُمَا فَلْيَجِئْ بِہِمَا،فَأَمَرَ بِہِمَا،فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبٍ بِالْمَدِينَةِ.

سیدہ ام ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب غزوہ بدر کے لیے گئے تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے ساتھ جانے کی اجازت دیجئیے۔میں آپ کے مریضوں کا علاج معالجہ اور خدمت کروں گی اور شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب فرما دے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’تم اپنے گھر ہی میں ٹھہرو،اللہ تعالیٰ تمہیں شہادت کی موت دے گا۔‘‘ چنانچہ یہ ’’شہیدہ‘‘ کے لقب سے پکاری جانے لگی اور اس نے قرآن پاک پڑھا تھا اور نبی کریم ﷺ سے اپنے گھر میں مؤذن رکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔اس نے ایک غلام اور ایک لونڈی کو مدبر بنایا تھا۔(یعنی اس کی موت کے بعد آزاد ہوں گے)۔یہ دونوں ایک رات اس کی طرف اٹھے اور ایک چادر سے اس کا منہ بند کر دیا،حتیٰ کہ وہ مر گئی اور خود بھاگ گئے۔صبح کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا کہ جسے ان کے بارے میں کچھ علم ہو یا انہیں دیکھا ہو تو انہیں لے آئے۔چنانچہ ان کے بارے میں حکم دیا اور وہ دونوں سولی چڑھا دیے گئے اور یہ مدینہ میں پہلے آدمی تھے جن کو سولی دی گئی۔