Sunan Abi Dawood Hadith 592 (سنن أبي داود)
[592]حسن
انظر الحدیث السابق (591)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ،عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ, بِنْتِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ بِہَذَا الْحَدِيثِ... وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَزُورُہَا فِي بَيْتِہَا،وَجَعَلَ لَہَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَہَا،وَأَمَرَہَا أَنْ تَؤُمَّ أَہْلَ دَارِہَا. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَہَا شَيْخًا كَبِيرًا.
جناب عبدالرحمٰن بن خلاد سے روایت ہے انہوں نے سیدہ ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث سے یہی حدیث بیان کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس کے ہاں اس کے گھر میں ملنے کے لیے آیا کرتے تھے اور اس کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا تھا جو اس کے لیے اذان دیتا تھا اور آپ نے اسے (ام ورقہ کو) حکم دیا تھا کہ اپنے گھر والوں کی امامت کرایا کرے۔عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے اس کے مؤذن کو دیکھا تھا جو بہت بوڑھا تھا۔