Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 596 (سنن أبي داود)

[596]إسنادہ حسن

أبو عطیۃ: حسن الحدیث، وثقہ ابن خزیمۃ (1520) والترمذي (356) مشکوۃ المصابیح (1120)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا أَبَانُ،عَنْ بُدَيْلٍ،حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ،مَوْلًی مِنَّا قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ حُوَيْرِثٍ يَأْتِينَا إِلَی مُصَلَّانَا ہَذَا،فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ،فَقُلْنَا لَہُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّہْ،فَقَالَ لَنَا،قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ, وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ, سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: مَنْ زَارَ قَوْمًا, فَلَا يَؤُمَّہُمْ،وَلْيَؤُمَّہُمْ رَجُلٌ مِنْہُمْ.

جناب ابوعطیہ نے بیان کیا کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں اسی جگہ،جہاں ہم نماز پڑھتے ہیں،آیا کرتے تھے۔چنانچہ نماز کی اقامت کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آگے بڑھیں اور نماز پڑھائیں۔انہوں نے کہا: کوئی اپنا آدمی آگے کرو جو تمہیں نماز پڑھائے۔میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں اس وقت کیوں نماز نہیں پڑھاتا؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرما رہے تھے ’’جو شخص کسی قوم کو ملنے کے لیے جائے تو ان کی امامت نہ کرائے بلکہ ان ہی میں کا کوئی شخص امامت کرائے۔‘‘