Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 601 (سنن أبي داود)

[601]صحیح

صحیح بخاری (689) صحیح مسلم (411)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ رَكِبَ فَرَسًا،فَصُرِعَ عَنْہُ،فَجُحِشَ شِقُّہُ الْأَيْمَنُ،فَصَلَّی صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَہُوَ قَاعِدٌ،وَصَلَّيْنَا وَرَاءَہُ قُعُودًا،فَلَمَّا انْصَرَفَ،قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِہِ،فَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا،وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا،وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا،وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ, فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ،وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا, فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے۔اس سے آپ ﷺ کا دایاں پہلو چھل گیا تو آپ ﷺ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی۔ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا ’’امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔وہ جب کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھو۔جب وہ رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب ((سمع اللہ لمن حمدہ)) ’’سن لیا اللہ نے اس کو جس نے اس کی تعریف کی۔‘‘ کہے تو کہو ((ربنا ولک الحمد)) ’’اے ہمارے رب اور تیری ہی تعریف ہے۔‘‘ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘