Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 604 (سنن أبي داود)

[604]صحیح

أخرجہ مسلم (404) ولکنہ منسوخ بحدیث أبي ھریرۃ کما في صحیح مسلم (395) مشکوۃ المصابیح (857)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ،حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ،عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ،عَنْ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِہِ بِہَذَا الْخَبَرِ... زَادَ: وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا. قَالَ أَبو دَاود: وَہَذِہِ الزِّيَادَةُ-وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا-لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ. الْوَہْمُ عِنْدَنَا مِنْ أَبِي خَالِدٍ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔‘‘ اور اس روایت میں اضافہ کیا ’’اور جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ اضافہ ((وإذا قرأ فأنصتوا)) یعنی جب امام قرآت کرے تو تم خاموش رہو۔محفوظ نہیں ہے اور ہمارے نزدیک یہ ابوخالد کا وہم ہے۔