Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 607 (سنن أبي داود)

[607] إسنادہ ضعیف

محمد بن صالح الأزرق مجھول الحال وحصین بن عبد الرحمٰن الأشھلي لم یدرک أسید بن حضیر

وثبت عن أسید نحوہ موقوفًا انظر الأوسط لابن المنذر (4/ 206،اثر: 2045 وسندہ صحیح) وصححہ الحافظ في فتح الباري (3/ 176)

انوار الصحیفہ ص 35

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللہِ،أَخْبَرَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ،حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ-مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ-،عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ،أَنَّہُ كَانَ يَؤُمُّہُمْ،قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَعُودُہُ،فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ إِمَامَنَا مَرِيضٌ؟ فَقَالَ: إِذَا صَلَّی قَاعِدًا،فَصَلُّوا قُعُودًا. قَالَ أَبو دَاود: وَہَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ.

جناب حصین،یہ سعد بن معاذ کی اولاد میں سے تھے،سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی امامت کرایا کرتے تھے۔رسول اللہ ﷺ ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا امام بیمار ہے،تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھا کرو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث متصل نہیں ہے۔