Sunan Abi Dawood Hadith 634 (سنن أبي داود)
[634]صحیح
صحیح مسلم (3008)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ وَيَحْيَی بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاہِدٍ أَبُو حَزْرَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللہِ قَالَ سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي غَزْوَةٍ فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَہَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْہَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَكَانَتْ لَہَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُہَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْہَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْہَا لَا تَسْقُطُ ثُمَّ جِئْتُ حَتَّی قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّی أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِہِ فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّی قَامَ عَنْ يَسَارِہِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْہِ جَمِيعًا حَتَّی أَقَامَنَا خَلْفَہُ قَالَ وَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ ثُمَّ فَطِنْتُ بِہِ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِہَا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللہِ ﷺ قَالَ يَا جَابِرُ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْہِ وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْہُ عَلَی حِقْوِكَ
جناب عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ہاں آئے تو انہوں نے بتایا کہ میں ایک غزوے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلا۔آپ اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور مجھ پر ایک چادر تھی۔میں نے اس کے پلوؤں کو اس کے مخالف اطراف سے لپیٹنے کی کوشش کی (یعنی دایاں پلو بائیں کندھے پر اور بایاں پلو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا) مگر اس میں گنجائش نہیں تھی اور اس کے کناروں پر جھالر سی لگی تھی۔میں نے انہیں الٹا کیا اور اس کے کناروں میں اختلاف کر کے اپنی گردن پر باندھ لیا اور گردن کو جھکا لیا کہ کہیں گر نہ جائے۔پھر میں آ کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔پھر ابن صخر آئے اور وہ آپ کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔پس آپ نے ہم دونوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا حتیٰ کہ اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔آپ مجھے کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے مگر میں نہ سمجھ سکا۔پھر میں سمجھ گیا اور آپ نے اشارہ کیا کہ اسے تہ بند بنا لوں۔جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا ’’اے جابر!‘‘ میں نے کیا: اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں! آپ ﷺ نے فرمایا ’’جب کپڑا کھلا ہو تو اس کے کناروں میں اختلاف کر لیا کرو (اور کندھوں پر ڈال لیا کرو) اور اگر تنگ ہو تو اپنی کمر پر باندھ لیا کرو۔‘‘ (یعنی صرف تہبند باندھ لیا کرو)۔