Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 638 (سنن أبي داود)

[638]إسنادہ حسن

وأخرجہ البیھقي (2/ 242 وسندہ حسن، یحییٰ بن ابی کثیر صرح بالسماع عندہ)، أبو جعفر الموذن: وثقہ الجمھور: ابن حبان، موارد الظمان: 2406، الترمذی: حسن لہ: 3448، النووی، صحح لہ فی ریاض الصالحین، ابن حجر قواہ فی تخریج الاذکار، روی عنہ یحیی بن أبي کثیر وھو لا یحدث إلاعن ثقۃ عند أبي حاتم الرازي مشکوۃ المصابیح (761)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَہُ إِذْ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ مَا لَكَ أَمَرْتَہُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْہُ فَقَالَ إِنَّہُ كَانَ يُصَلِّي وَہُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَہُ وَإِنَّ اللہَ تَعَالَی لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَہُ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور وہ اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے تھا۔رسول اللہ ﷺ نے (دیکھا تو) اسے فرمایا ’’جاؤ اور وضو کر کے آؤ۔‘‘ چنانچہ وہ گیا اور وضو کر کے آیا۔آپ ﷺ نے اسے دوبارہ فرمایا ’’جاؤ اور وضو کر کے آؤ۔‘‘ چنانچہ وہ گیا اور وضو کر کے آیا۔تو ایک آدمی نے آپ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کس وجہ سے آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا،پھر آپ اس سے خاموش ہو رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ شخص اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جو اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا ہو۔‘‘