Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 642 (سنن أبي داود)

[642] إسنادہ ضعیف

محمد بن سیرین لم یسمع من أم المؤمنین عائشۃ رضي اللہ عنھا (المراسیل لابن أبي حاتم ص188 رقم 687)

انوار الصحیفہ ص 36

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَی صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَہَا فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَی لِي حَقْوَہُ وَقَالَ لِي شُقِّيہِ بِشُقَّتَيْنِ فَأَعْطِي ہَذِہِ نِصْفًا وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا فَإِنِّي لَا أَرَاہَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ أَوْ لَا أُرَاہُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَلِكَ رَوَاہُ ہِشَامٌ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ

امام محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا،صفیہ ام طلحہ الطلحات کی مہمان ہوئیں۔پس ان کی بیٹیوں کو دیکھا تو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے جبکہ میرے حجرے میں ایک نوعمر لڑکی تھی۔آپ ﷺ نے اپنا تہبند میری طرف پھینکا اور فرمایا ’’اسے دو حصوں میں پھاڑو اور ایک حصہ اس لڑکی کو دے دو اور دوسرا اس کو جو ام سلمہ کے ہاں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ بالغ (جوان) ہو گئی ہے۔یا (فرمایا کہ) میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں جوان ہو گئی ہیں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ہشام نے بھی ابن سیرین سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔