Sunan Abi Dawood Hadith 646 (سنن أبي داود)
[646]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيہِ أَنَّہُ رَأَی أَبَا رَافِعٍ مَوْلَی النَّبِيِّ ﷺ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْہِمَا السَّلَام وَہُوَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَدْ غَرَزَ ضَفْرَہُ فِي قَفَاہُ فَحَلَّہَا أَبُو رَافِعٍ فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْہِ مُغْضَبًا فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ أَقْبِلْ عَلَی صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَغْرَزَ ضَفْرِہِ
جناب سعید بن ابی سعید مقبری اپنے والد سے بیان کرتے ہیں،انہوں نے سیدنا ابورافع (مولی رسول اللہ ﷺ) کو دیکھا کہ وہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنی گدی میں اپنے بالوں کی چوٹی دھنسا رکھی تھی۔پس ابورافع نے ان کے بال کھول دیے۔سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے غصے سے ان کی طرف دیکھا،تو ابورافع نے کہا: اپنی نماز پڑھیے اور ناراض مت ہوئیے۔بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جوڑے کا یہ مقام شیطان کی بیٹھک ہے۔