Sunan Abi Dawood Hadith 647 (سنن أبي داود)
[647]صحیح
صحیح مسلم (492)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَہُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَی عَبْدَ اللہِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُہُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِہِ فَقَامَ وَرَاءَہُ فَجَعَلَ يَحُلُّہُ وَأَقَرَّ لَہُ الْآخَرُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَرَأْسِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ ہَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَہُوَ مَكْتُوفٌ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ عبداللہ بن حارث نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے،تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر ان کے بال کھولنے لگے۔انہوں نے (یعنی عبداللہ بن حارث نے دوران نماز میں) اس پر کوئی انکار نہ کیا۔نماز کے بعد وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر سے کیا کام؟ (یعنی آپ نے میرے بال کیوں کھولے؟) انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے ’’بالوں کا جوڑا بنا لینا ایسے ہے جیسے کوئی نماز پڑھے اور اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوں۔‘‘