Sunan Abi Dawood Hadith 650 (سنن أبي داود)
[650]إسنادہ صحیح
مشکوۃ المصابیح (766)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللہِ ﷺ يُصَلِّي بِأَصْحَابِہِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْہِ فَوَضَعَہُمَا عَنْ يَسَارِہِ فَلَمَّا رَأَی ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَہُمْ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللہِ ﷺ صَلَاتَہُ قَالَ مَا حَمَلَكُمْ عَلَی إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ قَالُوا رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ جِبْرِيلَ ﷺ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيہِمَا قَذَرًا أَوْ قَالَ أَذًی وَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَی فِي نَعْلَيْہِ قَذَرًا أَوْ أَذًی فَلْيَمْسَحْہُ وَلْيُصَلِّ فِيہِمَا
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے (دوران نماز میں) اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے۔جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کو دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ’’تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بیشک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کے جوتے میں گندگی لگی ہے۔‘‘ (لفظ ((قذر)) تھا یا ((أذی))) آپ ﷺ نے فرمایا ’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو بغور دیکھ لیا کرے۔اگر ان میں کوئی گندگی یا نجاست نظر آئے تو اسے پونچھ ڈالے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔‘‘