Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 657 (سنن أبي داود)

[657]صحیح

صحیح بخاری (870)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللہِ إِنِّي رَجُلٌ ضَخْمٌ وَكَانَ ضَخْمًا لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ وَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا وَدَعَاہُ إِلَی بَيْتِہِ فَصَلِّ حَتَّی أَرَاكَ كَيْفَ تُصَلِّي فَأَقْتَدِيَ بِكَ فَنَضَحُوا لَہُ طَرَفَ حَصِيرٍ كَانَ لَہُمْ فَقَامَ فَصَلَّی رَكْعَتَيْنِ قَالَ فُلَانُ بْنُ الْجَارُودِ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ يُصَلِّي الضُّحَی قَالَ لَمْ أَرَہُ صَلَّی إِلَّا يَوْمَئِذٍ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ ایک انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھاری جسم والا ہوں اور وہ واقعی موٹا تھا میں آپ کی معیت میں نماز ادا نہیں کر سکتا اور اس نے آپ ﷺ کے لیے کھانا تیار کروایا اور آپ ﷺ کو اپنے گھر دعوت دی،کہ آپ (میرے ہاں گھر میں) نماز پڑھیں،حتیٰ کہ آپ کو دیکھوں کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں،لہٰذا میں بھی آپ کی طرح کیا کروں۔(چنانچہ آپ ﷺ اس کے گھر تشریف لے گئے) تو ان لوگوں نے آپ ﷺ کے لیے چٹائی کے ایک ٹکڑے پر پانی چھڑکا (تاکہ وہ نرم ہو جائے) آپ ﷺ نے اس پر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی۔جارود کے بیٹے فلاں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ ضحٰی (چاشت کے وقت) کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو صرف اسی دن یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا۔