Sunan Abi Dawood Hadith 666 (سنن أبي داود)
[666]إسنادہ حسن
عبد اللہ بن وھب صرح بالسماع عند الحاکم (1/213) مشکوۃ المصابیح (1102)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ إِبْرَاہِيمَ الْغَافِقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ وَحَدِيثُ ابْنِ وَہْبٍ أَتَمُّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاہِرِيَّةِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ أَبِي الزَّاہِرِيَّةِ عَنْ أَبِي شَجَرَةَ لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ أَقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ لَمْ يَقُلْ عِيسَی بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللہُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللہُ قَالَ أَبُو دَاوُد أَبُو شَجَرَةَ كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَمَعْنَی وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ إِذَا جَاءَ رَجُلٌ إِلَی الصَّفِّ فَذَہَبَ يَدْخُلُ فِيہِ فَيَنْبَغِي أَنْ يُلِينَ لَہُ كُلُّ رَجُلٍ مَنْكِبَيْہِ حَتَّی يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’صفوں کو درست کر لو،کندھوں کو برابر رکھو،درمیان میں فاصلہ نہ رہنے دو اور اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم بن جاؤ۔‘‘ راوی حدیث عیسیٰ بن ابراہیم نے ((بأیدی إخوانکم)) ’’اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں‘‘۔کے لفظ بیان نہیں کیے۔’’اور شیطان کے لیے خلا نہ چھوڑو۔جس نے صف کو ملایا،اللہ اسے ملائے اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اسے کاٹے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (راوی حدیث) ’’ابو شجرہ‘‘ سے مراد کثیر بن مرہ ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ۔“ کا معنی یہ ہے کہ جب کوئی صف میں داخل ہونا چاہے تو (صف میں پہلے سے موجود) ہر شخص کو اپنے کندھے نرم کر دینے چاہئیں تاکہ وہ صف میں داخل ہو سکے۔