Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 669 (سنن أبي داود)

[669] إسنادہ ضعیف

مصعب بن ثابت ضعیف وقال فی التقریب (6686) ’’لین الحدیث وکان عابدًا‘‘وقال الھیثمي في مجمع الزوائد: ’’والأکثر علٰی تضعیفہ‘‘ (1/ 25)

انوار الصحیفہ ص 36، 37

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ صَاحِبِ الْمَقْصُورَةِ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَی جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمًا فَقَالَ ہَلْ تَدْرِي لِمَ صُنِعَ ہَذَا الْعُودُ فَقُلْتُ لَا وَاللہِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَضَعُ يَدَہُ عَلَيْہِ فَيَقُولُ اسْتَوُوا وَعَدِّلُوا صُفُوفَكُمْ

جناب محمد بن مسلم بن سائب صاحب مقصورہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی تو انہوں نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی کیوں رکھی ہوئی ہے؟ میں نے کہا: نہیں،قسم اللہ کی! انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اس پر ہاتھ رکھا کرتے تھے (یعنی اپنے ہاتھ میں پکڑا کرتے تھے) اور فرماتے تھے ’’برابر ہو جاؤ اور اپنی صفوں کو سیدھا کر لو۔‘‘