Sunan Abi Dawood Hadith 684 (سنن أبي داود)
[684]صحیح
انظر الحدیث السابق (683)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا زِيَادٌ الْأَعْلَمُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ جَاءَ وَرَسُولُ اللہِ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَی إِلَی الصَّفِّ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ ﷺ صَلَاتَہُ قَالَ أَيُّكُمْ الَّذِي رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشَی إِلَی الصَّفِّ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ زَادَكَ اللہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ قَالَ أَبُو دَاوُد زِيَادٌ الْأَعْلَمُ زِيَادُ بْنُ فُلَانِ بْنِ قُرَّةَ وَہُوَ ابْنُ خَالَةِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ
جناب حسن بصری سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ ﷺ رکوع میں تھے،تو انہوں نے صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا اور پھر (اسی حالت میں) چلتے ہوئے صف میں جا ملے۔جب نبی کریم ﷺ نے نماز مکمل کی تو پوچھا ’’تو میں سے کس نے صف میں ملنے سے پہلے رکوع کیا تھا پھر وہ چلتے ہوئے صف میں ملا؟‘‘ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میں تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ تیری (نیکی کی) حرص اور بڑھائے،پھر ایسے نہ کرنا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: زیاد اعلم کا نام زیاد بن فلان ابن قرہ ہے اور یہ یونس بن عبید کا خالہ زاد ہے۔